الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الأنبیاء والمرسلین، وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین۔
معزز حضرات!
ربیع الاول کا مہینہ ہے۔
ربیع کا معنی ہے بہار، اور ربیع الاول یعنی پہلی بہار۔
لیکن مسلمانوں کے لیے یہ صرف موسم کی بہار کا نام نہیں۔
یہ اس ہستی کی آمد کی یاد دلاتا ہے جس کے تشریف لانے سے انسانیت کی خزاں بہار میں بدل گئی۔
وہ ذات جس کے آنے سے کفر کے اندھیرے چھٹے، توحید کا چراغ روشن ہوا، انسان کو اس کے رب سے تعلق کا راستہ ملا، اخلاق کو بلندی ملی اور دنیا کو ایک ایسا نمونۂ حیات ملا جس کی مثال قیامت تک باقی رہے گی۔
یہ وہی مبارک مہینہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے، اور اسی مہینے میں آپ ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ پہنچ کر ایک ایسی اسلامی معاشرت کی بنیاد رکھی جس نے دنیا کو عدل، اخوت، رحمت اور انسانیت کا نیا تصور دیا۔
اس لیے ربیع الاول ہمیں صرف ایک تاریخ یاد نہیں دلاتا؛
یہ ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ سے اپنا تعلق یاد دلاتا ہے۔
اور جب محمد ﷺ کا ذکر ہو تو دل خاموش کیسے رہ سکتا ہے؟
زبان پر درود آتا ہے، آنکھوں میں محبت آتی ہے، اور دل چاہتا ہے کہ اپنے محبوب ﷺ کی تعریف میں کچھ کہا جائے۔
اسی جذبۂ محبت کا ایک خوبصورت اظہار ہے:
نعتِ رسول ﷺ۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

مولوی ذی شان حیدر


الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الأنبیاء والمرسلین، وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین۔

سامعینِ مکرم!

آج دنیا پر ایک عجیب منظر چل رہا ہے۔
جنگیں ہیں، خون ہے، بارود ہے، میزائل ہیں، خوف ہے، نقل مکانی ہے،
اور مسلمان آپس میں تقسیم ہیں،
ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانیاں اور نفرتیں ہیں۔
ایسے وقت میں ایک مسلمان کی نظر  جس طرف اٹھتی ہے، 
وہ ہے  کعبۃ اللہ۔
ایک مومن اس دھرتی پر امن کے لیے اگر کسی جگہ کی طرف دیکھتا ہے تو وہ کون سی جگہ ہے؟
وہ ہے مکہ المکرمہ۔
اس گھر کی طرف جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَنْ دَخَلَہ كَانَ اٰمِنًا

وہی جگہ جس کے بارے میں قرآن اعلان کرتا ہے:

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ

بےشک ( عبادت کے لیے) پہلا گھر جو لوگو ں کے لیے بنایا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے تما م جہا ن وا لو ں کے لیے برکت والااورہدایت (کا مرکز) ہے ۔
کعبہ صرف ایک عمارت نہیں۔
یہ قبلہ ہے۔
یہ مرکز ہے۔
یہ توحید کی علامت ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں دنیا کے مختلف ملکوں، نسلوں، زبانوں اور رنگوں کے مسلمان ایک لباس میں، ایک سمت میں، ایک رب کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔
اور اسی لیے
آج کا سوال صرف یہ نہیں کہ:
حرمین کی حفاظت کیسے ہوگی؟
بلکہ ایک بڑا سوال یہ ہے:
حرمین ہمیں کیا سکھاتے ہیں؟

سیدنا ابراہیم ؑ نے یہ گھر انسانوں کے لیے بنایا تھا

کعبہ کی تاریخ صرف مکہ کی تاریخ نہیں۔
یہ انسان کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔
مفسرین کہتے ہیں کہ اسے سب سے پہلے انسانوں کے باپ سیدنا آدمؑ نے تعمیر کیا۔ 
پہلا گھر انسانوں کے لیے اللہ کی یاد کی خاطر جو بنایا گیا کعبہ ہے۔
قرآن نے اسے “لِلنَّاسِ” کہا:
لوگوں کے لیے۔
پھر ابراہیم علیہ السلام آئے۔
ان کے ساتھ اسماعیل علیہ السلام ہیں۔
اور قرآن نے وہ منظر محفوظ کر دیا جب باپ اور بیٹا اس گھر کی بنیادیں بلند کر رہے تھے:

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ

ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام دیواریں اٹھا رہے ہیں اور ساتھ دعا کر رہے ہیں:

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا

اے ہمارے رب! ہماری طرف سے یہ خدمت قبول فرمالے۔
ذرا اس منظر کو ذہن میں لائیے!
ایک باپ۔
ایک بیٹا۔
ایک گھر۔
اور ایک دعا۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا

یہ گھر کسی قوم کی بادشاہت کا نشان بنانے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔
یہ گھر اللہ کی بندگی کے لیے تھا۔
یہ گھر انسانوں کو ایک رب کے سامنے جمع کرنے کے لیے تھا۔
اس کے معمار وں ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کا پیغام خدمت ہے، 
ان کا تعمیر کیا ہوا اللہ کا گھر الناس کے لیے ہے ۔۔۔ لوگوں کے لیے ہے۔
کعبہ کا مزاج اتحاد ہے۔
کعبہ انسانوں کو جوڑتا ہے۔ 
یہ انسانوں کو ایک مرکز کے گرد جمع ہونے کا درس دیتا ہے۔

آخری نبی حضرت محمد مصطفےٰﷺ اور آخری اُمت اُمتِ محمدیہ ، لیکن پیغام وہی۔۔۔ مرکز وہی۔۔۔

میرے محترم بھائیو!
سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے عرب آباد ہوئے۔
مکہ آباد ہوا۔
زمانہ گزرتا گیا۔
لوگ بدلتے گئے۔
لیکن گھر قائم رہا۔
پھر محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔
آپ ﷺ نے اسی کعبہ کو شرک کی علامتوں سے پاک کیا۔
آپ ﷺ نے بت توڑے۔
لیکن یاد رکھیے:
آپ ﷺ نے صرف بت نہیں توڑے؛ آپﷺ نے انسانوں کو انسانوں کا خدا بننے سے بھی روکا۔
پھر حجۃ الوداع آیا۔
چشمِ فلک نے عجب نظارہ دیکھا۔
خاتم النبیین ہیں اونٹی پر ہیں،
یہ مکہ کی مقدس سرزمین ہے،
منیٰ کا مقام ہے، 
یومِ نحر ہے،
قربانی کا دن،
دسویں ذی الحجہ ہے،
دنوں میں بڑا دن، سارے شہروں میں بڑا شہر، سارے نبیوں سے بڑے نبی۔۔۔
سید الانبیاء محمد مصطفےٰ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں،
دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے اپنی اُمت کو پیغام دے رہے ہیں،
زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھا رہے ہیں،
کامیابی کا نسخہ دے رہے ہیں،
غور کریں اس خطبہ میں ایک عظیم بات ارشاد فرما رہے ہیں:

فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ

تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں،
کیسے حرام ہیں، 
ٹھہریے، آپ کے عقیدوں کی غلطی واضح ہونے والی ہے،
ہم نے عقیدے کس سے سیکھنے ہیں؟
رسول اللہﷺ سے بڑھ کے کوئی ذات ہے جس سے دین سیکھنا ہے؟
کوئی مفتی، کوئی امام، کوئی ولی، کوئی انسان، کوئی جن، کوئی فرشتہ ان کے ارشاد کے بعد بات کر سکتا ہے؟
بالکل نہیں!
پورا واقعہ سنیے۔
پیارے نبیﷺ نے حجۃ الوداع میں عید کے پہلے دن اونٹی پر سوار خطبہ دیا، صحابہ سے پوچھا:
جانتے ہو، آج کون سا دن ہے؟
صحابہ کہتے ہیں، ہم نے عرض کیا:  اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔
آپﷺ خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپﷺ اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے،
لیکن آپﷺ نے پھر پوچھا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟
ہم بولے: جی ہاں قربانی کا ہی دن ہے،
پھر آپﷺ نے پوچھا: یہ مہینہ کون سا ہے؟
ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔
آپ ﷺ پھر خاموش ہو گئے اور ہمیں خیال ہوا کہ آپﷺ اس مہینہ کا کوئی اور نام رکھیں گے،
لیکن آپ نے فرمایا: کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟
ہم بولے: کیوں نہیں، ذی الحجہ کا ہی مہینہ ہے،
پھر آپ ﷺ نے پوچھا: یہ شہر کون سا ہے؟
ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں،
اس مرتبہ بھی آپ ﷺ اس طرح خاموش ہو گئے کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ﷺ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے،
لیکن آپ ﷺ نے فرمایا: کہ یہ حرمت کا شہر نہیں ہے؟
ہم نے عرض کی کیوں نہیں ضرور ہے،
اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:  

فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ

تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے ایسے ہی قابلِ احترام ہیں،
کیسے 

كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا

جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ میں ہے اور اس شہر میں ہے،
کب تک ہے؟
فرمایا: تب تک جب تک تم اپنے رب سے نہ جا ملو۔
یعنی پوری زندگی اپنے مسلمان بھائی بہنوں بچوں بچیوں کا احترام اور ان کے حقوق جان مال عزت آبرو کی حفاظت موت تک کرنی ہے۔
اس میں کوئی چھوٹ نہیں، کوئی عذر نہیں۔
ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ جو مسلمان کے جان مال عزت آبرو کی حفاظت کرے گا وہ ایسا ہے،
جیسے وہ شہر مکہ کی حفاظت کرے وہ بھی  ذی الحجہ کے مہینے میں اور عین عید الاضحیٰ یوم  النحر کے دن ۔ 

مومن کی حرمت کعبے سے بھی زیادہ ہے

سنیے! سنیے!
حدیث نبویﷺ ہے،
حضرت عبداللہ بن عُمر  رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا،
رسول اللہﷺ کعبے کا طواف کر رہے ہیں،
آپﷺ فرما رہے :
اے کعبہ! تو کتنا عمدہ ہے، تیری خوشبو کتنی اچھی ہے، تو کتنا بڑے رتبہ والا ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے،
لیکن
لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے،

لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ مَالِهِ وَدَمِهِ وَأَنْ , نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا

ایک مومن کی حرمت  یعنی مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے، اس لیے ہمیں مومن کے ساتھ حسن ظن ہی رکھنا چاہیئے۔
مومن کی حرمت کعبے سے زیادہ ہے۔
یہ جملہ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔
کعبہ محترم ہے۔
بہت محترم ہے۔
اس کی حفاظت ضروری ہے۔
اس پر حملہ ناقابل برداشت ہے۔
لیکن کعبہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ مسلمان کا خون بھی مقدس ہے۔
اس لیے:
کعبہ کی حفاظت کریں،
لیکن کعبہ کے نام پر مسلمان کو نہ ماریں۔
حرم کی حرمت بچائیں،
لیکن مسلمان کی حرمت پامال نہ کریں۔
اور یاد رکھیں:
کعبہ مسلمانوں کا مرکز ہے، لیکن اسے مسلمانوں کی تقسیم کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

حجۃ الوداع پر رسول اللہﷺ نے ایک اور سخت تاکید فرمائی تھی

رسول اللہ ﷺ نے بڑی سختی سے تنبیہ فرمائی تھی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:

لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

“میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگو۔”
یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں آئی ہے۔
ذرا غور کیجیے!
یہ فرمان کسی عام جگہ نہیں دیا گیا۔
حجۃ الوداع میں۔
اور اس امت کو مخاطب کرکے،
جسے ابھی قیامت تک کے لیے چھوڑا جا رہا تھا۔
گویا نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں:
میری امت کی سب سے بڑی تباہی صرف باہر سے آنے والے دشمن سے نہیں؛ آپس کی نفرتوں نہ پھیلنے دینا۔
آج اگر مسلمان مسلمان کے خلاف نفرت میں اس حد تک پہنچ جائے کہ اس کا خون حلال سمجھنے لگے تو اسے رک کر اپنے نبی ﷺ کی یہ آواز سننی چاہیے:
“میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں نہ کاٹنے لگ جانا!”

ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھانا بہادری نہیں

 جب فتنہ ایسا ہو کہ حق و باطل کی پہچان مشکل ہو جائے،
مسلمان مسلمان کے مقابل کھڑا ہو جائے،
تو نبی ﷺ نے ایسے ہی حالات کے لیے ایک ہدایت جاری کی تھی۔
وہ یہ کہ آپس میں جنگوں کی نوبت آ جائے تو ایسی جنگوں میں حصہ نہ لینا۔
آپﷺ نے یہاں تک فرما دیاتھا:

كَسِّرُوا فِيهَا قِسِيَّكُمْ، وَقَطِّعُوا فِيهَا أَوْتَارَكُمْ، وَالْزَمُوا فِيهَا أَجْوَافَ بُيُوتِكُمْ، وَكُونُوا كَابْنِ آدَم

آپس میں فتنے پڑ جائیں تو
اپنی کمانیں توڑ دو،
ان کی تانیں  کاٹ دو،
اپنے گھروں کے اندر رہو
اور آدم کے بیٹے کی طرح ہو جاؤ۔
یعنی ہابیل کی طرح اپنے بھائی کے سامنے گردن پیش کر دو اور کہو

لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ ۚ

اگر تُو نے مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تب بھی میں تجھ پر اپنا ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔
یہاں اسلام ہمیں ایک عجیب سبق دیتا ہے:
ہر جنگ لڑنا بہادری نہیں۔
کبھی سب سے بڑی بہادری یہ ہے کہ آدمی اپنی تلوار توڑ دے۔
اپنا غصہ تھوک دے ۔
اپنا ہاتھ روک لے۔
اور مسلمان کا خون بہانے سے اپنے آپ کو بچا لے۔

کعبہ تو  قیامت سے پہلے ٹوٹے گا، لیکن مومن اسے نہیں توڑیں گے

رسول اللہ ﷺ نے خبر دی کہ آخری زمانے میں ایک حبشی شخص، جسے احادیث میں ذو السویقتین کہا گیا ہے، کعبہ کو منہدم کرے گا۔
صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ

حبشہ کا ایک پتلی پتلی پنڈلیوں والا آدمی کعبہ کو تباہ کرے گا۔

استمتعوا من هذا البيت فإنه قد هدم مرتين ويرفع في الثالثة

اس گھر سے فائدہ اٹھا لو ، یعنی اس کا طواف اور زیارت کثرت سے کرو، کیونکہ اسے دو مرتبہ گرایا جا چکا ہے اور تیسری مرتبہ اٹھا لیا جائے گا
اگر ہمارے پیارے نبیؐ نے بتایا کہ یہ ہو گا، تو میں کون ہوں کہ انکار کروں۔
ایک وقت ضرور ایسا آئے گا،
جب بیت اللہ کی اینٹیں بھی باقی نہیں رہیں گی۔
سوچیے!
جس گھر کے گرد دنیا بھر کے مسلمان طواف کرتے ہیں، ایک وقت آئے گا کہ وہ خود منہدم کر دیا جائے گا۔
اس کا مطلب کیا ہے؟
کعبہ ہماری منزل نہیں؛ اللہ ہماری منزل ہے۔
کعبہ کی حفاظت کے لیے جو ہو گا کریں گے لیکن کیوں ؟
کیوں کہ وہ اللہ کا گھر ہے۔
لیکن اس کی وجہ سے کسی مومن کی حق تلفی نہیں کریں گے۔
کیوں ؟
کیوں کہ یہ بھی اللہ کا حکم ہے۔
مومن کے دل میں اللہ کی یاد ہے۔
اللہ مومن کے دل پہ ہمیشہ نظر رکھتا ہے۔ 
وہ شکلیں، صورتیں، مال، جائیدادیں نہیں دیکھتا،
مومن کا دل دیکھتا ہے۔
کعبہ مقدس ہے۔
لیکن مومن کی عزت کعبہ سے کم مقدس نہیں ہے۔
عمارتیں ختم ہونے والی ہیں۔
سلطنتیں ختم ہونے والی ہیں۔
قومیں ختم ہونے والی ہیں۔
حتیٰ کہ قیامت کے قریب یہ مقدس گھر بھی اپنی موجودہ صورت میں باقی نہیں رہے گا۔
لیکن اللہ باقی رہے گا۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

اقبالؒ نے کیا خوب صورت بات کی ہے۔
لیکن ہم نے اس کے ایک حصے کو اہمیت دی دوسرے کو نہیں دی۔
حرم کی پاسبانی بہت اہم کام ہے جو ہمیں کرنا ہے۔
لیکن
مسلمانوں کا ایک ہونا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
کیوں کہ جب تک ایک نہ ہوئے تو پاسبانی کا دھوکہ تو ہو سکتا ہے پاسبانی نہیں ہو سکتی۔
آج ہمیں صرف کعبہ کانام اور نشان ہی نہیں ، کعبہ کے پیغام کو زندہ رکھنا ہے۔
کعبہ کا پیغام کیا ہے؟
توحید۔
عبادت۔
امن۔
حرمتِ انسان۔
اتحاد۔
اللہ کے سامنے برابری۔
صف میں کھڑے ہو جاؤ۔
امیر اور غریب ایک صف میں۔
بادشاہ اور مزدور ایک صف میں۔
سیاہ اور سفید ایک صف میں۔
عربی اور عجمی ایک صف میں۔
پاکستانی، فلسطینی، افریقی، ترک، ایرانی، عرب، افغانی، یورپی — سب ایک قبلے کے سامنے۔
یہ کعبہ کا پیغام ہے۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر
حرم کی پاسبانی صرف سرحد پر بندوق اٹھانے کا نام نہیں۔
حرم کی پاسبانی یہ بھی ہے کہ:
مسلمان کا خون محفوظ ہو۔
مسلمان کی عزت محفوظ ہو۔
مسلمان کا مال محفوظ ہو۔
مسلمان کی مسجد محفوظ ہو۔
مسلمان کا گھر محفوظ ہو۔
مسلمان کا بچہ محفوظ ہو۔
مسلمان کا اختلاف دشمنی نہ بنے۔
مسلمان کا سیاسی یا فقہی اختلاف قتل و قتال نہ بنے۔
اور مسلمان مسلمان کو اپنا دشمن سمجھنے سے پہلے اپنے نبی ﷺ کا یہ فرمان یاد کرے:
“میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں نہ کاٹنے لگ جانا۔”

آج  کا سبق  ہے

ایک دن ایسا آئے گا جب شاید کعبہ کی دیواریں باقی نہ رہیں۔
لیکن آج ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم کعبہ کی روح کو اپنے اندر زندہ رکھیں۔
توحید کو زندہ رکھیں۔
امن کو زندہ رکھیں۔
اخوت کو زندہ رکھیں۔
رحمت کو زندہ رکھیں۔
اور سب سے بڑھ کر:
مسلمان کے خون کی حرمت کو زندہ رکھیں۔
کیونکہ کعبہ ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہم ایک دوسرے کو توڑیں۔
کعبہ ہمیں سکھاتا ہے:
ایک رب، ایک قبلہ، ایک امت۔
اے اللہ!
حرمین شریفین کی حفاظت فرما۔
مکہ مکرمہ کی حفاظت فرما۔
مدینہ منورہ کی حفاظت فرما۔
دنیا کے تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزت کی حفاظت فرما۔
جنگوں کو امن میں بدل دے۔
فتنوں کو ختم فرما۔
مسلمانوں کے دلوں سے ایک دوسرے کی نفرت نکال دے۔
ہمیں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی جان و عزت کی حرمت پہچاننے والا بنا۔

اللهم صل وسلم وبارك على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
آمین یا رب العالمین۔

حوالہ جات:

1 خیال ”ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے“ پر

  1. ماشاء اللہ حضرت صاحب، بہت خوب، بہت گہرا اور قابل تسلیم ، مدلل اور مقتضائے حال کے عین مطابق۔ جزاکم اللہ خیرا

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

urUrdu
اوپر تک سکرول کریں۔