Ancient Qur’an Manuscripts Brouht Back to Attention on its Completion of 1400 Years

قرآن مجید کی حفاظت صرف ایک عقیدہ نہیں، ایک تاریخی سوال بھی ہے

قرآن مجید کے بارے میں تمام مسلمانوں کا ایک غیر متزلزل ایمان ہے :۔
یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے (القرآن
لیکن اگر ہم اس ایمان کو ایک تاریخی اور علمی سوال میں تبدیل کریں تو کیا کہیں گے:۔
اس حفاظت کی تاریخ کے آثار کہاں ہیں؟
کیا آج ہمارے پاس ایسے قدیم مصاحف موجود ہیں جو ہمیں قرآن مجید کے ابتدائی زمانے تک لے جاتے ہوں؟
کیا کبھی دنیا کے مختلف عجائب گھروں، کتب خانوں اور مخطوطاتی مراکز میں محفوظ قدیم قرآنی نسخوں کا باہم تقابل کیا گیا ہے؟
اور اگر کیا گیا ہے تو ان قدیم صفحات پر آج کے قرآن مجید سے کیا تعلق نظر آتا ہے؟
یہ سوالات صرف مسلمانوں کے لیے اہم نہیں۔ گزشتہ دو صدیوں میں مغربی جامعات اور مستشرقین نے بھی قرآن مجید کے ابتدائی متن، اس کی تدوین اور اس کے تاریخی ارتقا پر بہت کام کیا ہے۔جس سے ان سوالات کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اسی لیے قرآن مجید کی حفاظت کی تاریخ کو صرف جذبات سے نہیں بلکہ مخطوطات، کتابت، رسم، مادی شواہد اور تقابلی تحقیق کی زبان میں دیکھنا بھی ضروری ہے۔
اسی ضرورت کے احساس سے ایک نہایت سنجیدہ اور غیر معمولی جدید علمی کوشش کی بنیاد پڑتی ہے۔
تعاونِ اسلامی کی تنظیم (او۔آئی۔سی) کے تحت استنبول میں قائم ادارہ ارسیکا میدان میں اترتا ہے، اور اس کے تحت ڈاکٹر طیار آلتی قولاج کی قدیم قرآنی مصاحف پر  تحقیقات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

چودہ سو سال بعد ایک عالمی علمی یاد دہانی

سنہ 2010ء میں نزولِ قرآن کے آغاز سے چودہ صدیاں مکمل ہونے کے موقع پر ایک بین الاقوامی پروگرام شروع کیا گیا۔ یہ محض ترکی کا مقامی پروگرام نہ تھا۔ اس پروگرام کے پیچھے کارفرما سوچ کو جاننے کے لیے مئی 2010ء میں تاجکستان کے شہر دوشنبہ جانا ہو گا، جب او۔ آئی۔ سی کے فارن منسٹرز کونسل کا 37ویں اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ارسیکا کی تجویز پر ایک قرارداد منظور کی گئی کہ سنہ 2010-2011ء کو نزولِ قرآن مجید کے چودہ چودہ سو سال​سو سال مکمل ہونے کی یاد میں خصوصی سال کے طور پر منایا جائے۔
اسی سلسلے کی افتتاحی بین الاقوامی کانفرنس مؤرخہ  5 ستمبر ، 2010ء ، استنبول میں منعقد ہوئی، جو 26 رمضان 1431ھ کی شام، یعنی شبِ قدر کے موقع پر تھی۔ اس میں دنیا بھر سے سو سے زیادہ مندوبین شریک ہوئے۔
یہاں ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔

چودہ سو سال مکمل ہونے کی یاد منانے کا مطلب صرف تقریبات، کانفرنسیں یا خطابات کرنا نہ تھا۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے تاریخی سفر، قدیم مصاحف، تراجم، طباعت، قرآنی فنون اور مخطوطاتی ورثے کو دوبارہ علمی توجہ کا مرکز بنانے کی کوشش بھی کی گئی۔اور اسی ماحول میں ارسیکا​ نے مطالعۂ قرآن پاک کا فقید المثال منصوبہ شروع کیا۔

قدیم ترین قرآنی مصاحف اور ان کی فکسیملی نقول

مطالعہ قرآن کا منصوبہ بے حد دل چسپ تھا۔ اس کا مقصد محض نزولِ قرآن کے چودہ سو سال مکمل ہونے کی یاد چند تقریبات، کانفرنسیں یا خطابات کر دینا نہ تھا۔ بلکہ یہاں قرآنِ حکیم پر ایسی سلسلہ وار تحقیقات کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد دنیا بھر میں قرآنِ مجید کے متن کے پھیلاؤ کی تاریخ کو اس کی قدیم نقول اور تراجم کے ذریعے سمجھنا تھا۔ ابتدائی مصاحف کے خط، رسم، جسمانی ساخت اور دیگر مادی خصوصیات کا تقابلی مطالعہ اس پروگرام کا مرکزی حصہ بنا۔

سب سے قدیم ترین مصاحفِ قرآنی کی فکسیملی اشاعت پر کام شروع ہوا۔ اس اسلوبِ تحقیق میں اصل مخطوطے کے صفحات کی ایسی ہو بہو نقل تیار کی جاتی ہے، جس سے محققین اس کی: کتابت، رسم الخط، حروف کی ساخت،نقطوں،صفحوں کی ترتیب، سطروں، جلدبندی، کاغذ یا رَقّ، جسمانی ساخت اور موجودہ حالت جیسے پہلوؤں کا براہِ راست جائزہ لے سکیں۔

یعنی منصوبے کا بلند ترین خوبی یہ نہیں تھی کہ قدیم مصحف کو پڑھا جائے یا اس پر تحقیق کی جائے، بلکہ اس منصوبے کی اصل خوبی یہ تھی کہ قدیم مصاحف پر تحقیق کا دروازہ پورے دنیا کے محققیق کے لیے کھول دیا جائے اور اصل مصاحف کی ہوبہو نقول دنیا کے تمام اہم تحقیقی اداروں تک پہنچا کر انھیں محققین کے لیے آسان تر رسائی کے قابل بنا دیا جائے۔

توپ قاپی محل: پہلا پڑاؤ

ارسیکا​پہلے ہی سنہ 2007ء میں  استنبول کے توپ قاپی محل عجائب گھرمیں محفوظ ایک قدیم ترین قرآنی مصحف پر تفصیلی تحقیق کا کام کروا چکا تھا۔یہ مصحف حضرت عثمانؓ کے عہد یا دور کی طرف منسوب ایک قدیم قرآنی نسخہ ہے۔ اس تحقیق میں ڈاکٹر طیار آلتی قولاج نے مذکورہ مُصحف کا تاریخی، فنی اور مادی مطالعہ پیش کیا، جس کے ساتھ اس کی فکسیملی اشاعت بھی شامل تھی۔

وقت گزرنے کے باعث توپ قاپی مصحف کے چند مقامات پر تحریریں غیر واضح ہوچکی تھیں۔ مصحف میں صرف دو صفحات مفقود ہیں، جو 23 آیات بنی ہیں ، اس لیے یہ ابتدائی قرآنی نسخوں میں تقریباً مکمل حالت میں پہنچنے والے اہم ترین نمونوں میں شمار ہوتا ہے۔

توپ قاپی کا یہ قدیم مُصحف کوفی خط میں لکھا ہوا ہے اور اس کا بنیادی مادۂ تحریر پارچمنٹ (حیوانی جھلی) ہے۔ اس کے صفحات تقریباً ۴۶ × ۴۰ سینٹی میٹر کے ہیں اور اصل متن عموماً ۱۸ سطروں فی صفحہ پر مشتمل ہے۔ تحریر کا سیاہ متن اور اس کے ساتھ استعمال ہونے والی سرخ نقطوں کی علامات نمایاں خصوصیات ہیں۔ سرخ نقطے حروف کے اوپر، نیچے یا پہلو میں رکھے گئے ہیں اور ابتدائی اعرابی نظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ خط کی ساخت ایک ترقی یافتہ کوفی اسلوب کی حامل ہے، اس مصحف کو پہلی صدی ہجری میں تیار کیے جانے والے بالکل ابتدائی مَصاحف میں سے شمار کیا جانا بالکل واضح ہے، تاہم تحقیقات میں ایسے کوئی شواہد نہیں مل سکے جن کی بنا پر اسے صراحت کے ساتھ حضرت عثمانؓ بن عفان کے ہاتھ لکھا ہوا نسخہ​ کہا جا سکے۔

یہاں سے ایک اہم سوال پیدا ہوا :اگر توپ قاپی کا مصحف واقعی اتنا قدیم ہے تو اس کا متن آج ہمارے پاس موجود قرآن مجید کے متن سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے؟
اس سوال کا جواب صرف ایک مُصحف کی بنیاد پر ہی دے دینا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ چناں چہ مزید مَصاحف پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

قاہرہ: دوسرا قدیم مُصحف

سنہ 2009ء میں  ہی ارسیکا​ نے قاہرہ کی مرکزی اسلامی مخطوطات لائبریری میں محفوظ قدیم مصحف  کی تحقیقی اشاعت کی۔
یہ نسخہ بھی حضرت عثمانؓ کے عہد کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی فکسیملی کے ساتھ علمی مطالعہ کیا گیا، اور اس کا تقابل دوسرے ابتدائی مصاحف سے کیا گیا۔ اب بات کسی قدیمی نسخے سے آگے بڑھ کر تقابلی تحقیق تک پہنچ چکی تھی۔

صنعاء: ایک اور قدیم مصحف

سنہ 2011ء میں ارسیکا​ نے یمن کے شہر صنعاء میں جامع مسجد کے قریب موجود مخطوطاتی ذخیرے سے ایک قدیم قرآنی نسخے کی اشاعت کی۔ یہ نسخہ حضرت علیؓ بن ابی طالب کے زمانے کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ اب استنبول، قاہرہ اور صنعاء کے مصاحف کے تقابلی مطالعے سے تصویر واضح تر ہوتی چلی جا رہی تھی، لیکن سفر تو ابھی جاری تھی۔

پیرس: جب تحقیق نے ایک اور براعظم میں قدم رکھا

سنہ 2015ء میں ارسیکا​ نے پیرس میں واقع فرانس کی نیشنل لائبریری میں محفوظ ایک نہایت قدیم قرآنی مخطوطے پر تحقیق شائع کی۔  یہ مکمل مصحف نہیں بلکہ ایک جزوی مخطوطہ ہے۔ لیکن جزوی ہونے کے باوجود اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔
قدیم مخطوطات کی تحقیق میں بعض اوقات چند صفحات بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، چناں چہ پیرس کے مخطوطے سے :خط، رسم، کتابت کا انداز، آیات کی ترتیب، صفحے کی ساخت، اور ابتدائی قرآنی کتابت کی خصوصیات کا مطالعہ کیا گیا۔ چنانچہ اس کا مطالعہ کیا گیا دقیق تحقیق کے ساتھ سنہ 2015 ء میں شائع کیا گیا۔

صرف نسخے نہیں، ایک مجموعی تحقیقی نتیجہ

اسی سال طیار آلتی قولاچ کی ایک جامع کتاب بھی شائع ہوئی:۔
Günümüze Ulaşan Mesahif-i Kadîme — İlk Mushaflar Üzerine Bir İnceleme
یعنی: ہمارے زمانے تک پہنچنے والے قدیم قرآنی مصاحف — اولین مصاحف پر ایک مطالعہ

یہ کتاب اس لیے اہم ہے کہ یہ محض ایک مصحف کی تحقیق نہیں بلکہ پہلے کیے گئے مختلف مطالعات سے حاصل ہونے والے مشاہدات اور تقابلی نتائج کو ایک جامع شکل دیتی ہے۔ارسیکا​نے اسے اپنے قدیم مصاحف کے تحقیقی منصوبے کا ایک جامع خلاصہ قرار دیا ہے۔

تیوبنگن: جب مخطوطہ جدید سائنسی تحقیق سے بھی گزرا

سنہ 2016ءمیں اس تحقیق کا اگلا پڑاؤجرمنی کی تیوبنگن یونیورسٹی کی لائبریری میں تھا۔ یہاں محفوظ قدیم قرآنی مخطوطے پر بھی ارسیکا​کی جانب سے تحقیقی اشاعت سامنے آئی۔

برطانیہ : کیا کہانی یہاں ختم ہوگئی؟

سنہ 2017ء میں ارسیکا​نے لندن میں واقع   برطانیہ کی لائبریری میں محفوظ ایک قدیم قرآنی نسخے پر ڈاکٹر طیار آلتی قولاج  کی تحقیقی اشاعت پیش کی۔  یہ بھی ایک جزوی مصحف تھا۔  ارسیکا​ کے مطابق اس کے باقی ماندہ اوراق میں 37 سورتوں کا مواد شامل ہے، جن میں 29 مکمل صورت میں ہیں، اور اسے پہلی صدی ہجری سے متعلق قرار دیا گیا ہے۔

یہ مرحلہ خاص طور پر اہم تھا۔
کیونکہ اب ہمارے سامنے ابتدائی قرآنی نسخوں کا ایک ایسا مجموعہ بن چکا تھا جو مختلف ممالک اور مختلف مخطوطاتی مراکز میں محفوظ تھا۔لیکن یہاں ایک دلچسپ بات ہے کہ برطانیہ کی لائبریری اس سفر کی آخری منزل نہیں تھی۔بلکہ اس کے بعد تحقیق مزید آگے بڑھی۔

برلن: ایک قدم اور آگے

قدیم قرآنی مخطوطات پر ارسیکا​کا تحقیقی سلسلہ برطانیہ کی لائبریری کے بعد بھی جاری رہا۔ جرمنی کی برلن  سٹیٹ  لائبریری میں محفوظ ایک قدیم قرآنی نسخے پر بھی ڈاکٹر طیار آلتی قولاج نے تفصیلی کام کیا۔ارسیکا​ کے مطابق اس نسخے کی موجودہ باقیات کی تاریخ کا اندازہ تقریباً 662–765ء کے دور سے لگایا گیا ہے۔ یہ کتاب 2019ء میں ارسیکا  سے شائع ہوئی اور اس میں 841 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحقیقی حصہ شامل ہے۔

اب ذرا پورے سفر کو سے دیکھیں۔
استنبول سے قاہرہ سے صنعاء سے پیرس سے تیوبنگن سے لندن سے برلن
نہ یہ کسی ایک عجائب گھر کی کہانی رہی تھی نہ کسی ملک یا براعظم تک محدود۔ یہ تو اب ایک عالمی مخطوطاتی نقشہ بن چکا تھا۔

اس پورے سفر سے کیا حاصل ہوا؟

ارسیکا​نے کوئی ایک جادوئی نسخہ تلاش نہیں کیا جسے دکھا کر قرآن مجید کی پوری تاریخ ثابت کی جا سکے۔ اس نے جو کیا وہ جادو سے زیادہ طاقت ور اور اہم تھا ۔ اس نے مختلف زمانوں، مختلف شہروں اور مختلف مخطوطاتی ذخیروں میں محفوظ ابتدائی قرآنی نسخوں کو ایک منظم تحقیقی سلسلے میں لا کر ان کا تقابلی مطالعہ کر کے قرآن مجید کے ابتدائی متنی سفر کے بارے میں بہت زیادہ سنجیدہ اور
مادی نتائج پیش کیے۔ جیسے یہ کہ ۔

١۔ تاریخ بندی ہمیں قرآن مجید کے ابتدائی تحریری شواہد کو اسلام کی پہلی صدیوں تک لے جاتی ہے
٢۔ رسم ہمیں ابتدائی مصاحف اور رسمِ عثمانی کے درمیان تعلق دکھاتا ہے
٣۔املائی اختلافات ہمیں ابتدائی عربی کتابت کے ارتقائی مرحلے سے آگاہ کرتے ہیں
٤۔ نقطے اور حرکات ہمیں بتاتے ہیں کہ قرآنی متن کی تحریری رہنمائی کرنے والی علامات وقت کے ساتھ زیادہ منظم ہوئیں
٥۔مختلف جغرافیائی مصاحف کا تقابل ہمیں ایک وسیع اور متصل قرآنی کتابتی روایت دکھاتا ہے
٦۔  قدیم صفحات کی مجموعی موجودگی ہمیں یہ دیکھنے کا موقع دیتی ہے کہ قرآن کی تحریری روایت اسلام کے ابتدائی زمانے سے ہی مادی شکل میں ہمارے سامنے موجود تھی۔

تاہم یاد رہے کہ ایمان ہمیں قرآن مجید کی حفاظت کا یقین دیتا ہے؛جب کہ مصاحف کی تاریخی، سائنسی اور فنی تحقیق ہمیں اس حفاظت کی تاریخی شہادتوں کو سمجھنے کا ایک طریقہ دیتی ہے۔ یہ کہنا یا سمجھنا درست نہ ہو گا کہ مصاحف کی شہادتوں سے ثابت ہو تو ہی ایمان لائیں گے۔ البتہ تدوین و تحفیظ کی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنے اور حفاظتِ قرآن پر وارد ہونے والے اعتراضات کا جواب دینے کی خاطریہ پوری تحقیق سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ ارسیکا​کی اس کوشش کو قرآن مجید کی حفاظت کی پوری تاریخ سمجھ لینا بھی درست نہیں ہوگا۔
قرآن مجید کی حفاظت کی تاریخ اس سے کہیں وسیع ہے۔
اس میں شامل ہیں:۔
سینوں میں حفاظت: بذریعہ حفظ و زبانی روایت
صحیفوں پر کتابت: ابتدائی دور کی تحریرات
مصاحف کی تدوین: ابتدائی عہد اسلام میں تحریری مجموعے
قدیم مصاحف: جن کے نسخے، نقول یا صفحات آج بھی عجائب گھروں میں محفوظ ہیں
مطبوعات:
یعنی جب مشینی طباعت سے نسخے تیار ہو کر ہرگھر میں پہنچے
جدید مخطوطاتی تحقیقات:جب جامعات اور تحقیقاتی اداروں نے قدیم نسخوں کا سائنسی و تقابلی مطالعہ شروع کیا اور مخطوطات کی فکسیملی نقول تیار کیں
ڈیجیٹل قرآن: جب ہر آیت، ہر نسخہ اور ہر مخطوطہ کی تصویر بذریعہ برقی مصادر پوری دنیا کے محققین تک پہنچانا ممکن ہو گیا

ہم اگلی نسل کے لیے قرآن مجید کو کیسے محفوظ کر کے جائیں؟

چودہ سو سال پہلے قرآن مجید کی حفاظت کا ایک بڑا ذریعہ انسان کا سینہ تھا۔
پھر رق اور کاغذ آئے۔
پھر مخطوطات۔
پھر مطبوعہ مصاحف۔
اور آج ڈیجیٹل آرکائیوز، ہائی ریزولوشن اسکین، ڈیٹا بیس اور مصنوعی ذہانت تک یہ سفر پہنچ چکا ہے۔

اگر گزشتہ نسلوں نے قرآن مجید کے صفحات محفوظ کیے
اگر انہوں نے مصاحف لکھے
اگر انہوں نے انہیں نسل در نسل منتقل کیا
اگر آج کے محققین نے دنیا بھر میں بکھرے ہوئے قدیم نسخوں کو تلاش کرکے ان کی فکسیملی اشاعتیں تیار کیں—
تو ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
شاید ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ:۔
ہم قرآن مجید کو صرف پڑھیں نہیں؛
اس کی تاریخ کو بھی محفوظ کریں۔
صرف تلاوت نہ کریں؛
اس کے علمی ورثے کو بھی سمجھیں۔
صرف اپنے پاس مصحف نہ رکھیں؛
بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے اس کے علمی شواہد بھی محفوظ کریں۔
کیونکہ قرآن مجید کی حفاظت کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔
حفاظتِ قرآن کا سفر تا قیامت جاری رہے گا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

urUrdu
اوپر تک سکرول کریں۔