Give Charity According to Qur’anic Etiquette

صدقہ قرآنی آداب کے مطابق دیجیے

نحمدہ ونُصلی علیٰ رسولہ الکریم ، اما بعد۔۔۔

صرف روپیہ پیسہ دینے سے بات ختم نہیں ہوتی، بلکہ پاکیزہ معاشرے کا قیام مطلوب ہے۔
ہم صدقہ دیتے ہیں۔
کبھی کسی بھوکے کو کھانا دیتے ہیں، کبھی کسی مریض کی مدد کرتے ہیں، کبھی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں۔
لیکن قرآن حکیم صدقے کے بارے میں صرف یہ نہیں پوچھتا کہ تم نے کتنا دیا؟
وہ اس سے کہیں زیادہ گہرا سوال کرتا ہے:۔
تم نے کس کو دیا ، کیسے دیا اور کیا نیت کی تھی؟
کیونکہ ممکن ہے ہاتھ سے مال نکل جائے، مگر دل میں تکبر رہ جائے۔
ممکن ہے کسی کی ضرورت پوری ہو جائے، مگر اس کی عزتِ نفس مجروح ہو جائے۔
ممکن ہے صدقے کی گنتی پوری ہو جائے، مگر اخلاص کہیں پیچھے رہ جائے۔
قرآن حکیم ہمیں صدقہ دینے کی مقدار نہیں، مزاج بھی سکھاتا ہے۔

نمبر 1۔ کیا نیت اللہ کے لیے ہے؟

صدقہ سب سے پہلے دل سے شروع ہوتا ہے۔

قرآن نیک لوگوں کا وصف بیان کرتا ہے کہ وہ ضرورت مند کو کھانا کھلاتے ہیں،
اور دل میں کہتے ہیں: ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں۔1
یہاں ایک بڑا سبق ہے۔
جس نیکی کی رسید یا انعام دنیا سے مانگ لیا ، اس کا اجر اللہ سے کیسے مانگا جا سکتا ہے؟
صدقہ دیتے وقت ہاتھ سے پہلے اپنے دل کو دیکھیں۔
کیا مجھے واقعی اللہ کی خالص رضا مطلوب ہے؟
یا مجھے کسی کی تعریف، شکریہ، شہرت یا اپنی برتری کا احساس بھی چاہیے؟

نمبر 2۔ کیا میں اچھی چیز دے رہا ہوں؟

قرآن حکیم نے صدقے کے لیے ایک عجیب مگر بالکل سیدھا سا معیار دیا: وہ یہ کہ نیکی کا لطف پانا ہے تو اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں دینی ہو گی۔2
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی کمائی کی پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کیا کرو، نہ کہ ایسی خراب یا ردی چیزیں ،3​ جو خود استعمال کرنا پسند نہ کرتے ہو۔
یہ حکم صرف کھانے پر نہیں رکتا۔
کپڑا ہو تو قابلِ استعمال ہو۔
سامان ہو تو واقعی کام کا ہو۔
گھر کی کوئی چیز ہو تو ایسی نہ ہو جسے خود رکھنے میں ہمیں شرم آئے۔
غریب کی ضرورت کو اپنا کوڑا دان نہیں بنانا چاہیے۔
4​ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے فرامین کے مطابق تو مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ دوسرے کے لیے وہی پسند کرتا ہے، جو وہ اپنے لیے پسند کرے۔

نمبر 3۔ کیا صدقہ دینے کے بعد میں احسان تو نہیں جتانے لگتا؟

اس نکتے پر قرآن حکیم بڑے دو ٹوک انداز میں واضح کرتا ہے کہ اگر کسی کی مدد کرنے کے بعد اس سے احسان مندی کی توقع رکھی تھی اور اذیت دینی شروع کر دی ہے تو بہتر تھا کہ اس کی مدد کرنے کی بجائے پیار سے معذرت کر لیتے5​۔
اللہ ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے جو خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں، نہ تکلیف پہنچاتے ہیں6​۔
یعنی صدقہ دینے کے بعد یہ کہنا:۔
“میں نے تمہارے لیے یہ کیا تھا۔۔۔”
“اگر میں نہ ہوتا تو تم کیا کرتے۔۔۔”
“میں نے تمہاری اتنی مدد کی ہے۔۔۔”
یہ الفاظ شاید ہمارے خیال میں امداد کو بڑا بناتے ہوں گے، مگر اللہ کے ہاں اسے مردود کرنے کے لیے کافی ہیں۔
جو ہاتھ نے دیا ہے، اسے زبان سے واپس نہ چھین لو۔

نمبر 4۔ کیا میری مدد کسی کی عزتِ نفس بچا رہی ہے؟

قرآن مجید ہمیں ایسے محتاجوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جو اپنی خودداری کی وجہ سے لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔
چوں کہ وہ اپنی خودداری کی وجہ سے کسی سے اپنی حاجت بیان نہیں کرتے، تو لوگ انھیں خوش حال سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ محتاج ہوتے ہیں7​۔
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں حاجت مندی کے بارے میں اپنا رویہ بدلیں۔
صرف یہ مت دیکھو کہ کون مانگ رہا ہے۔
یہ بھی دیکھو کہ کون مانگ نہیں رہا، لیکن حاجت مند ہے۔
کبھی خاموش پڑوسی، خاموش رشتہ دار، خاموش استاد، خاموش مزدور اور خاموش بزرگ ہماری مدد کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔
ضرورت کی آواز ہمیشہ زبان سے نہیں نکلتی۔

نمبر 5۔ کیا میرے صدقے میں دکھاوا تو نہیں؟

قرآن نے ریا کو صدقے کے راستے میں ایک خطرناک آفت قرار دیا ہے‮8​۔
آج اس امتحان کی شکلیں بدل گئی ہیں۔
کبھی تصویر۔
کبھی ویڈیو۔
کبھی نام کی تختی۔
کبھی سوشل میڈیا کی پوسٹ۔
اگرچہ لازمی نہیں کہ کسی نیک کام کا ہر اشتہار ہی ریاکاری سمجھ لیا جائے، البتہ ہر نیکی کو دکھانے کی عادت انسان کو اپنے دل کا جائزہ لینے پر ضرور مجبور کرتی ہے۔
کبھی ایسی نیکی بھی کیجیے جس کا علم صرف اللہ اور آپ کو ہو۔
وہ صدقہ جو لوگوں کی نظروں سے چھپ جائے، اللہ کی نظر سے نہیں چھپتا۔

نمبر 6۔ کیا میں صحیح مستحق تک پہنچ رہا ہوں؟

قرآن حکیم نے صدقے کے مستحقین کو ہماری جذباتی پسند پر نہیں چھوڑا۔
قرآن مجید نے تو والدین، رشتہ دار، یتیم، مسکین اور مسافر جیسے طبقات کو سب سے اہم مسحقین میں شمار کیا ہے9​۔ نبیِ مکرمﷺ نے صدقہ دینے کے لیے ضرورت مند رشتہ دار کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے، چاہے وہ آپ کے ساتھ اچھا رویہ بھی نہ رکھتا ہو۔10
اور زکوٰۃ کے لیے مزید واضح مستحقین بیان کیے۔11
اس لیے صدقہ صرف یہ نہیں کہ “مجھے کسی کی مدد کرنی ہے”۔
یہ بھی سوچنا ہے:۔
“کس کی ضرورت زیادہ ہے؟”
کسی کے پاس آج کا کھانا نہیں۔
کسی پر قرض چڑھا ہوا ہے۔
کسی کا علاج رک گیا ہے۔
کسی کے پاس سفر کا خرچ نہیں۔
کسی کے بچے کی تعلیم رک رہی ہے۔
نیکی صرف خرچ کرنے میں نہیں؛ صحیح جگہ خرچ کرنے میں بھی ہے۔

نمبر 7۔ کیا میں بخل اور اسراف، دونوں سے بچ رہا ہوں؟

قرآن حکیم نے خرچ کرنے کے بارے میں ایک واضح اصول بتایا ہے، یہ کہ نہ ہاتھ باندھ کر بیٹھ جاؤ کہ کسی کو کچھ دو گے ہی نہیں، نہ یہ کہ اتنا ہاتھ کھول دو کہ سب کچھ ہی لُٹا دو12​۔
اسلامی سخاوت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے ذمہ دار لوگوں کے حقوق بھول جائے۔
بخل بھی درست نہیں، لیکن بے تدبیری کرنا بھی اسلام کا طریقہ نہیں۔
صدقہ دل کی سخاوت اور عقل کی حکمت، دونوں کا تقاضا کرتا ہے۔

نمبر 8۔ کیا میں صرف بڑی چیز دینے کو ہی صدقہ سمجھتا ہوں؟

سورۃ الماعون ہمیں صدقے کا ایک اور حیرت انگیز رخ دکھاتی ہے۔

اس سورۃ میں قرآن حکیم ایسے لوگوں کو بھی قابلِ گرفت قرار دیتا ہے، جو ماعون روک لیتے ہیں13​۔

ترجمہ نگاروں نے لفظ ماعون کا مطلب عام استعمال کی چیز،14​ معمولی چیز، 15​معمولی سی چیز، 16​برتنے کی کوئی ادنیٰ چیز، 17​ روزمرہ کے برتنے کی معمولی چیز 18​ وغیرہ کے لفظوں سے کیا ہے۔
یعنی نیکی صرف بڑی رقم، یا بڑی چیز دینے کا نام نہیں۔
بڑا صدقہ ہے:۔
موقع پر کسی کے کام آ جانا۔
کسی کو ضرورت کی معمولی چیز دے دینا۔
کسی کا کام آسان کر دینا۔
اپنی چیز عاریتاً دے دینا۔
کسی ضرورت مند کے لیے سہولت پیدا کرنا۔
کبھی انسان کو آپ کے ہزار روپے نہیں، آپ کی ایک چھوٹی سی مدد چاہیے ہوتی ہے۔
رسول اللہﷺ نے صدقہ کی ایسی صورتیں بیان فرمائیں ہیں جو دیکھنے میں بہت چھوٹی ہیں لیکن انھی سے ایک عظیم معاشرے کی بنیاد پڑتی ہے، جیسے:۔ہر معروف صدقہ ہے، تمہارا اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملنا اور تمہارا اپنی بالٹی سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈال دینا بھی نیکی میں سے ہے۔19

نمبر 9۔کیا میرا صدقہ بھوک، بیماری اور محرومی تک پہنچ رہا ہے؟

قرآن کا انفاق انسان کی حقیقی ضرورت سے جڑا ہوا ہے۔
وہ مسکین، یتیم، مقروض، مسافر اور دوسرے مستحق انسانوں کو ہماری ذمہ داری کے دائرے میں لاتا ہے20​۔
یہی وجہ ہے کہ صدقہ صرف ایک مذہبی رسم نہیں؛ یہ معاشرے کے کمزور انسان کو سہارا دینے کا ذریعہ ہے۔
آج کی دنیا بھی غربت، بھوک، صحت، تعلیم اور عدم مساوات جیسے مسائل کو انسانی ترقی کے بنیادی چیلنجز مانتی ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف میں غربت کا خاتمہ، بھوک کا خاتمہ، صحت، تعلیم اور عدم مساوات میں کمی نمایاں اہداف ہیں۔
مگر قرآن حکیم اس سے بہت پہلے انسان کو انسانی بہبود و ترقی کے تمام اہداف اور ذمہ داری دے چکا ہے۔
لیکن ٹھہریئے۔
کیا ہم مسلمان ان ذمہ داریوں پر پورا اُتر رہے ہیں؟
یا کم از کم ان پر کبھی غور بھی کرتے ہیں؟
قرآن مجید کے پیغام کو ہمیشہ یاد رکھیں: اپنے مال میں کمزوروں اور محروموں کو بھول مت جائیں۔21

نمبر 10۔کیا میرا صدقہ صرف آج کا سہارا ہے؟

ایک بھوکے کو آج کھانا دینا ضروری ہے۔
مریض کا آج علاج کرانا ضروری ہے۔
مقروض کا بوجھ آج ہلکا کرنا ضروری ہے۔
لیکن جہاں ممکن ہو، ایک سوال اور پوچھیں:۔
کیا میں اس انسان کے کل کو بھی بہتر بنا سکتا ہوں؟
کھانے کے ساتھ روزگار کا راستہ۔
فیس کے ساتھ تعلیم کا تسلسل۔
رقم کے ساتھ ہنر۔
وقتی مدد کے ساتھ مستقل سہارا۔
یہ ہر صدقے پر لازم شرط نہیں، لیکن جہاں ممکن ہو وہاں دیرپا فائدے کو سوچنا صدقے کے سماجی اثر کو بڑھا دیتا ہے22​۔

صدقہ ایک معاشرتی کردار کی ادائیگی کا نام ہے

قرآن کے نزدیک صدقہ کسی غریب پر ہمارا احسان نہیں۔
یہ اس مال میں سے خرچ کرنا ہے جو اللہ نے ہمیں دیا ہے۔
اس لیے اگلی بار صدقہ دیتے ہوئے صرف رقم نہ گنیں۔
اپنی نیت بھی گنیں۔
اپنا رویہ بھی دیکھیں۔
اپنے الفاظ بھی دیکھیں۔
مستحق بھی دیکھیں۔
اور یہ بھی دیکھیں کہ آپ کی مدد کے بعد سامنے والے کے دل میں کیا بچا ہے۔
اگر اس کے ہاتھ میں ضرورت پوری کرنے کا سامان آگیا، مگر دل میں اپنی بے بسی کا زخم بھی رہ گیا، تو ہم نے شاید نصف کام کیا ہے۔
بہترین صدقہ وہ ہے جو ضرورت پوری کرے، عزت بچائے اور دل کو اللہ سے جوڑ دے۔

اب اپنی باری ہے

آپ نے قرآن کا معیار پڑھ لیا۔
اب اپنے آپ کو جانچیے۔
یہ ایمان کا اسکور نہیں۔
یہ آپ کے موجودہ عمل کا جائزہ ہے۔
ہر معیار کے سامنے اپنے حقیقی عمل کے مطابق درجہ منتخب کریں۔
آپ کا مقصد 100% دکھانا نہیں۔
آپ کا مقصد یہ جاننا ہے کہ اگلا قدم کہاں اٹھانا ہے۔

اپنے صدقے کا جائزہ لیں

یہ ایمان کا اسکور نہیں۔ یہ آپ کے موجودہ عمل کا جائزہ ہے۔ ہر سوال آپ کو اپنے صدقے کے ایک خاص پہلو پر غور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مجموعی جائزہ 0 / 100

آپ کا موجودہ اسکور

0%

ابھی جائزہ مکمل نہیں ہوا۔ سوالات کے جواب دیتے جائیں؛ آپ کا اسکور خود بخود بنتا جائے گا۔

اگلا قدم: پہلے ان پہلوؤں پر توجہ دیں جہاں آپ کا اسکور کم ہے۔
آپ کا مقصد 100% دکھانا نہیں؛ مقصد یہ جاننا ہے کہ اگلا عملی قدم کہاں اٹھانا ہے۔
22 Footnotes
  1. اِنَّمَا نُـطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًا (سورۃ الدھر، آیت 9) (اور کہتے ہیں) بےشک ہم تمھیں اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں نہ ہم تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کوئی شکریہ۔
  2. لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (سورۃ اٰل عمران، آیت 92) تم (کامل) نیکی کو نہیں پہنچ سکتےجب تک کہ تم اُس میں سے خرچ نہ کرو جو تم محبوب رکھتے ہو۔۔۔
  3. أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ — وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ (سورۃ البقرۃ، آیت 267) اے ایمان والو ! عمدہ چیزوں میں سے خرچ کیا کرو جو تم نے کمائی ہیں۔۔۔ اور کسی ردّی چیز کا ارادہ نہ کرو ۔۔۔
  4. رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ، أَوَ قَالَ لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ (صحیح مسلم، حدیث 170 ) یعنی: م میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے (یا فرمایا: اپنے پڑوسی کے لیے بھی) وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
  5. قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَّتْبَعُهَآ اَذًى ۭ (سورۃ البقرۃ، آیت 263) اچھی بات کہنا اور درگزر کرنا ایسے صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد (سائل کو) ایذا پہنچے۔۔۔
  6. ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَآ اَذًى (سورۃ البقرۃ، آیت 262) پھر جو خرچ کیا اُس کے بعد نہ احسان جتاتے اور نہ تکلیف دیتے ہیں ۔۔۔
  7. لِلْفُقَرَاۗءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ ۡ يَحْسَبُھُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاۗءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ۚ تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ ۚ لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ (سورۃالبقرۃ، آیت 273) (خرچ کرو) اُن فقیروں کے لیے جو اللہ کی راہ میں روکے گئے ہیں وہ فرصت نہیں رکھتے کہ (معاش کے لئے) زمین میں چل پھر سکیں ایک ناواقف اُنھیں اُن کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے خوش حال سمجھتا ہے تم ان (کی حاجت مندی) کواُن کے چہروں سے پہچان سکتے ہو وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگا کرتے اور تم جو کچھ بھی مال میں سے خرچ کر تے ہو تو بےشک اللہ اُسے خوب جاننے والا ہے۔
  8. لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ … رِئَاءَ النَّاسِ (سورۃ البقرۃ، آیت 264) اے ایمان والو ! اپنے صدقات کو مت ضائع کرو۔۔۔ (اس شخص کی طرح جو) اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے۔۔۔
  9. فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ (سورۃ البقرۃ، آیت 215) (خرچ کرو) والدین اور رشتہ داروں اور یتیموں اورمسکینوں اور مسافروں کے لیے ۔۔۔
  10. نبی کریمﷺ نے فرمایا: إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ الصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ (مسند احمد، حدیث 23530) سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو اپنے اس رشتہ دار پر کیا جائے جو اس سے پہلو تہی کرتا ہو۔
  11. اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ (سورۃ التوبۃ، آیت ) بےشک زکوٰۃ تو (صرف) فقرا اور مسکینوں اور اس (کی تحصیل و تقسیم) پر مامور کارکنان اور (اُن کے لیے ہے) جن کی تالیف قلب (مطلوب) ہو اور غلاموں کی آزادی میں اور قرض داروں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے ہے یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔
  12. وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا (سورۃ الاسراء، آیت 29) اور اپنا ہاتھ نہ اپنی گردن سے باندھا ہوا رکھو (کہ کنجوس بن جاؤ) اور نہ اسے بالکل ہی کھول دو ورنہ ملامت زدہ تھکے ہارے رہ جاؤ گے۔
  13. وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ (سورۃ الماعون، آیت 7) اور استعمال کی معمولی چیزیں (مانگنے پر بھی) نہیں دیتے۔
  14. ڈاکٹر اسرار احمد، بیان القرآن
  15. مفتی تقی عثمانی، آسان ترجمہ قرآن
  16. ڈاکٹر طاہر القادری، عرفان القرآن
  17. جاوید احمد غامدی، البیان
  18. ابو الکلام آزاد، ترجمان القرآن
  19. كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ (جامع ترمذی، 1970)
  20. اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ (سورۃ التوبۃ، آیت ) بےشک زکوٰۃ تو (صرف) فقرا اور مسکینوں اور اس (کی تحصیل و تقسیم) پر مامور کارکنان اور (اُن کے لیے ہے) جن کی تالیف قلب (مطلوب) ہو اور غلاموں کی آزادی میں اور قرض داروں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے ہے یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔
  21. وَالَّذِيْنَ فِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ ۔ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ ۔ (سورۃ المعارج، آیت 24، 25 ) اور وہ لوگ جن کے مالوں میں ایک مقرر حصّہ ہے۔ مانگنے والے اور محروم کا۔
  22. شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک صدقہ کے بڑے مقاصد درج ذیل ہیں:۔ حاجت مند کی حاجت پوری کرنا، معاشرتی مواسات قائم کرنا، محرومی اور ہلاکت سے بچانا، اجتماعی نظام کو مضبوط کرنا، دل کو مال کی غلامی سے آزاد کرنا، اور مال کو حقیقی نفعِ عام کا ذریعہ بنانا۔ دیکھکیے شاہ ولی اللہ، حجۃ اللہ البالغہ، بیروت، 2005، ج 2، ص 61 تا ص 74

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

en_USEnglish
Scroll to Top