الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الأنبیاء والمرسلین، وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین۔
معزز حضرات!
ربیع الاول کا مہینہ ہے۔
ربیع کا معنی ہے بہار، اور ربیع الاول یعنی پہلی بہار۔
لیکن مسلمانوں کے لیے یہ صرف موسم کی بہار کا نام نہیں۔
یہ اس ہستی کی آمد کی یاد دلاتا ہے جس کے تشریف لانے سے انسانیت کی خزاں بہار میں بدل گئی۔
وہ ذات جس کے آنے سے کفر کے اندھیرے چھٹے، توحید کا چراغ روشن ہوا، انسان کو اس کے رب سے تعلق کا راستہ ملا، اخلاق کو بلندی ملی اور دنیا کو ایک ایسا نمونۂ حیات ملا جس کی مثال قیامت تک باقی رہے گی۔
یہ وہی مبارک مہینہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے، اور اسی مہینے میں آپ ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ پہنچ کر ایک ایسی اسلامی معاشرت کی بنیاد رکھی جس نے دنیا کو عدل، اخوت، رحمت اور انسانیت کا نیا تصور دیا۔
اس لیے ربیع الاول ہمیں صرف ایک تاریخ یاد نہیں دلاتا؛
یہ ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ سے اپنا تعلق یاد دلاتا ہے۔
اور جب محمد ﷺ کا ذکر ہو تو دل خاموش کیسے رہ سکتا ہے؟
زبان پر درود آتا ہے، آنکھوں میں محبت آتی ہے، اور دل چاہتا ہے کہ اپنے محبوب ﷺ کی تعریف میں کچھ کہا جائے۔
اسی جذبۂ محبت کا ایک خوبصورت اظہار ہے:
نعتِ رسول ﷺ۔

اولاد اللہ کی عظیم نعمت ہے: اور نعمتوں کے بارے میں آخرت میں سوال ہو گا

مولوی ذی شان حیدر


الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الأنبیاء والمرسلین، وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین۔

سامعینِ مکرم!

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ مال، صحت، گھر، عزت، وقت، صلاحیتیں۔۔۔
اور انھی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد ہے۔
اولاد انسان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، دل کا سکون ہے، زندگی کی رونق ہے۔
قرآن مجید نے  اولاد کو دنیا کی زندگی کی زینت قرار دیا ہے۔

زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا

لیکن ذرا غور کیجیے!
جس چیز کو اللہ نے ہمارے لیے زینت بنایا، اسے ہمارے سپرد بھی کیا ہے۔
کسی کو بیٹے سونپے ہیں کسی کو بیٹیاں، تو کسی  کو دونوں۔
اور جو چیز ہمارے سپرد کی جائے۔۔۔  سونپی جائے۔۔۔  وہ صرف نعمت نہیں رہتی؛ امانت بن جاتی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے امانتیں  پوری پوری حق داروں کو پہنچانے کا حکم دیا ہے۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
دھیان رکھنا، تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

اَلَاكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ

یہ حدیث ہم نے کتنی مرتبہ سنی ہے!
لیکن کبھی بیٹھ کر یہ سوچا ہے کہ اس کا مطلب ہمارے گھروں کے لیے کیا ہے؟
ہم بچوں کو کھانا دیتے ہیں، کپڑے دیتے ہیں، تعلیم دیتے ہیں، ان کے مستقبل کے لیے منصوبے بناتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بیٹا کامیاب ہو، ہماری بیٹی باعزت زندگی گزارے، وہ دنیا میں آگے بڑھیں، اچھے انسان بنیں۔

لیکن کیا ہم نے کبھی اس سوال کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھا کہ:
کیا ہمارا بچہ محفوظ ہے؟
کیا اس کا جسم محفوظ ہے؟
کیا اس کی عزت محفوظ ہے؟
کیا اس کی معصومیت محفوظ ہے؟
کیا اس کا اعتماد محفوظ ہے؟
کیا اس کا گھر اس کے لیے سب سے محفوظ جگہ ہے؟

بچوں کا جسم اور روح دونوں امانت ہیں

میرے محترم بھائیو!
اللہ تعالیٰ نے ہمیں بچے صرف اس لیے نہیں دیے کہ ہم ان کے پیٹ بھر دیں اور انھیں بڑا کر دیں۔
ان کے دل بھی ہمارے سپرد ہیں۔
ان کا ایمان بھی۔
ان کا کردار بھی۔
ان کی معصومیت بھی۔
ان کا اعتماد بھی۔
اور ان کی عزت بھی۔
قرآن کہتا ہے:

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ

ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔
یہ عزت کسی عمر کی محتاج نہیں۔
بچہ چھوٹا ہے، مگر بے عزت نہیں۔
وہ کمزور ہے، مگر بے حق نہیں۔
وہ خاموش ہے، مگر بے حرمت نہیں۔
وہ اپنے دفاع کے قابل نہیں، مگر اللہ کے نزدیک اس کی حرمت پوری ہے۔
اسی لیے جب کوئی طاقتور کسی کمزور کی حرمت پامال کرتا ہے تو یہ محض ایک غلط حرکت نہیں رہتی؛ یہ ظلم بن جاتی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ

بے شک اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

چھوٹے معصوم بچوں اور بچیوں  کا جنسی استحصال ہماری قوم کہاں سے سیکھ رہی ہے؟

ایسی کرب ناک خبریں ملتی ہیں، کہ روح کانپ جائے۔
ہم نے بے حیائی کا حل  صرف یہ سمجھے رکھا کہ عورتوں کو پردے کرا دو تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔
اب تو نہ چند سال کا بچہ محفوظ ہے نہ چند ماہ کی بچی۔  اتنے چھوٹے بچوں کا تو شریعت میں بھی پردہ نہیں۔۔۔
تو پھر
اپنا نظریہ بدلنا ہو گا۔
اپنے نظریے کو قرآن کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔
قرآن پاک نے سورۃ النور کی آیت 31 میں پردے کے مفصل اَحکام دیے ہیں، لیکن ان سے پہلے مَردوں کو مخاطب کیا۔
آیت نمبر 30  میں ہے:

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ

 دو احکام دیے:
پہلا، اپنی  نظریں نیچی  کرو،
دوسرا، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو،

مرد یہ احکام پورے کریں تو کیا کوئی ایسی  خبر ملے گی ۔۔ ۔جیسی روح فرسا خبریں ہمیں سننے کو مل رہی ہیں؟۔۔۔ بالکل نہیں۔
عورتوں کا پردہ انتہائی ضروری ہے، لیکن اسلام کا پورا حکم سمجھیں :
اپنا نظریہ بدل لیں ، پردے کا حکم صرف عورتوں کو نہیں ،
مردوں اور عورتوں سب نے پردے کرنا ہے۔
سب نے اپنی نظر میں حیا پیدا کرنی ہے۔
سب کو اپنی نیتیں صاف رکھنی ہیں۔
ہر ایک نے اپنے اپنے عمل کا حساب دینا ہے۔
کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ بدکاری کرنے والے مَردوں  کا یہ عذر قبول کر لیا جائے گا قیامت کے دن کہ: "اجی ہم کیا کرتے، عورتیں پردہ نہیں کرتی تھیں، لہٰذا ہمیں چھوڑ دو اور صرف انھیں سزا دو!"
کیا کسی آیتِ قرآنی یا کسی حدیثِ نبوی  میں اس بات کی کوئی دلیل  ہے؟۔۔۔ بالکل نہیں ہے۔

اپنی اولادوں  کو بدکاری میں پڑنے سے بھی بچانا ہے اور  اس کا  شکار بننے سے بھی بچانا ہے

سب سے پہلے پکی نیت کریں کہ آج  کے بعد عظیم نعمت  امانت جو اللہ نے اولاد کی صورت میں ہمارے سپرد کی ہے اس کی ہر برائی سے حفاظت بھی  کریں گے اور ان کی صحیح تربیت بھی کریں گے۔

اس سلسلے میں چار کام ضرور اپنائیں:

پہلا کام: جدید دور کی سب سے بڑی بلا سے بچوں کو بچائیں، یعنی  سمارٹ فون  سے

جوں جوں ہمارے فون  سمارٹ سے سمارٹ تر ہوتے جا رہے ہیں، توں توں ہماری نسلیں بد سے بدتر ہوتی چلی جا رہی ہیں۔
اخلاقیات اور اقدار کے جنازے اٹھ گئے ہیں۔
ہمیں  خود بھی فون  اور انٹرنیٹ کا درست استعمال سیکھنا ہو گا اور اپنی اولادوں کو بھی سکھانا ہو گا:

اول: بچوں کے موبائل، کمپیوٹر پر نگرانی  کا نظام استعمال کریں

میٹرک تک کے بچوں بچیوں کے ہاتھ میں جو ڈیوائس جائے اس پر والدین میں سے کسی کی آئی ڈی لگائیں اور پیرنٹل پروٹیکشن کی سیٹنگ  چلائیں،
اس پر سکرین ٹائم کی لمٹ لگائیں گے،
مثلاً دو گھنٹے ٹائم لگایا ہے تو  دو گھنٹے پورے ہونے کے بعد اگلی صبح تک دوبارہ فون  کا لاک نہیں کھلے گا،  ڈاؤن ٹائم لگائیں جیسے یہ کہ رات 8 بجے سے صبح 8 بجے تک آن نہ ہو،
اس کا  بڑے فوائد ہیں ہے، جیسے یہ کہ:
بچوں کے لیے نامناسب مواد نہیں چل سکے گا،
کون سی ایپ یا گیم ڈاؤن لوڈ ہوئی ہے، یا کتنے گھنٹے چلی ہے،
سب باتوں کا والدین کو نوٹیفکیشن آئے گا،
اس سے ہمیشہ لوکیشن اور انٹرنیٹ آن رہے گا، بند کرنے سے بھی بند نہیں ہو گا، تاکہ والدین یا نگران وغیرہ بچوں کی موومنٹ بھی ٹریس کر سکیں۔

دوم:     بلیو وھیل جیسی گیموں سے بچائیں

ہر بچہ موبائل پر جو گیمز کھیل رہا ہے اس کی خبر گیری رکھیں۔
ایسی گیمیں بنا دی گئیں ہیں جن سے بچوں کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے،
اور انھیں مرحلہ وار برائیوں کی طرف مائل کیا جاتا ہے اور پھر ان سے بڑے بڑے جرائم یا گناہ کروا دیے جاتے ہیں۔
بعض اوقات بچوں کو خود کشی کرنے تک کے ٹاسک دے دیے جاتے ہیں اور بچے وہ سب کر گزرتے ہیں۔

سوم:      بچے اور بچی میں فرق نہ کریں

ایک اور غلط نظریہ بدل لیں کہ بچی کو حفاظت کی ضرورت ہے اور بچے کو نہیں۔
تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان میں اوسطاً ہر تین میں سے ایک بچی اور ہر چار میں سے ایک بچہ  18 سال سے پہلے جنسی استحصال کا نشانہ بن رہا ہے۔  
بچوں کو کسی کے پاس اکیلا نہ چھوڑیں، کسی دوست یا رشتہ دار کو بچوں کے ساتھ تنہائی کا موقع نہ دیں،
بچوں کو بڑوں کی دوستی سے دور رکھیں،
کوئی بچوں کو تحفہ دے تو اس کی پوری چھان بین کریں،
بچوں کے رویہ میں تبدیلی کونوٹ کریں۔
رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ زیادہ تر زیادتی کرنے والے قریبی لوگ اور دوست یار ہوتے ہیں۔

دوسرا کام:       بچوں کے دوستوں کی خبر رکھیں

بچوں کی دوستی صرف ہم عمر بچوں سے ہی ہوں،
اور ان پر بھی نظر رہے کہ وہ کہاں کتنا وقت گزارتے ہیں، اور کون سے  جسمانی یا ڈیجیٹل کھیل کھیلتے ہیں۔
بالخصوص موبائل کمپیوٹر کی گیمز پر خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
بچوں کی پرائیویسی بھی اہم ہے لیکن اس کی ایک حد متعین کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
یہ کا م آسان نہیں ہے۔
لیکن آپ سے کس نے کہا ہے کہ اللہ کی خوش نودی لینے کے لیے تگ و دو نہیں کرنی پڑے گی؟
کس نے کہا کہ جنت کے درجات  بنا محنت مل جائیں گے؟
لوگوں نے دن رات ایک کر دیے ہیں، ریاضتیں کی ہیں، جانیں دی ہیں ۔

تیسرا کام:       سکول کے  اساتذہ،ٹیوشن پڑھانے والوں ، سیپارہ پڑھانے والے قاری، اور امام مسجد سب کی نگرانی ضروری ہے۔

بچوں کو جس کسی سے جو کچھ بھی سیکھنے کے لیے چھوڑیں تو ان سے  پابندی سے ملاقات کریں،
اور انھیں اس بات کا احساس دلائیں کہ آپ کو بچوں کی فکر بھی ہے اور ان کی پریشانیوں پر نظر بھی ہے۔
پرانے زمانے میں ایسا کہہ دیا جاتا تھا: "ماس توہاڈا تے ہڈیاں ساڈیاں"۔
ایسی بات تب بھی غلط تھی۔۔۔
لیکن آج تو قطعاً کبھی کسی استاد یا استانی کو ایسا نہ کہیں نہ ایسا تاثر دیں۔
کبھی یہ قبول نہ کریں کہ کوئی آپ کے بچوں کو مارے پیٹے یا ان کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ اپنائے۔
جس دن آپ نے کسی کو یہ تاثر دے دیا کہ بچے کی تکلیف کی آپ کو پروا نہیں اس دن کوئی بھی اس پر کسی بھی قسم کی زیادتی کے لیے ہاتھ بڑھانے میں جری ہو جائے گا۔

چوتھا کام: بچوں کو اعتماد دلائیں، کہ وہ ہر قسم کی پریشانی آپ کو کھل کر بتا سکیں

ہم نے شرم و حیا کا جھوٹا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ یہ ہماری شرعی ذمہ داری ہے کہ اولاد کو  پاک دامنی اور بدکاری کا فرق بتائیں، حیا کے فوائد بتائیں اور بےحیائی کے نقصانات سے آگاہ  کریں۔  
اب ذرا ایک منظر اپنے ذہن میں لائیے:۔
ایک چھوٹا سا بچہ ہے۔
اس نے ابھی دنیا کو جاننا شروع کیا ہے۔
اسے اچھے اور برے انسان میں فرق کا پورا شعور نہیں۔
ہم جسے کہتے ہیں:
"بیٹا! انکل کو سلام کرو۔"
بچہ سلام کر دیتا ہے۔
کیونکہ بچے کے لیے بڑوں کا اعتبار فطری ہوتا ہے۔
جس پر ہم اعتماد کرتے ہیں، بچہ بھی اس پر اعتماد کر لیتا ہے۔
لیکن اگر کبھی کوئی شخص بڑے ہونے کا فائدہ اٹھائے، تو؟
اگر وہ اس کے معصوم اعتماد کو توڑ دے، تو؟
اگر کوئی اس بچے کی بے بسی سے فائدہ اٹھائے، تو؟
اگر کوئی اس کی جسمانی حرمت پامال کرے، تو؟

تو ذرا سوچیے۔۔۔
وہ بچہ پھر کس پر اعتماد کرے گا؟
جس دنیا کو وہ محبت کی دنیا سمجھ رہا تھا، وہ اس کے لیے خوف کی دنیا بن جائے تو؟
جس ہاتھ کو وہ شفقت سمجھتا تھا، وہی ہاتھ اس کے لیے اذیت بن جائے تو؟

اور اگر وہ بچہ ڈر کر خاموش ہو جائے؟
اگر اسے دھمکایا جائے؟
اگر اسے کہا جائے:
"کسی کو مت بتانا!"
اور وہ واقعی کسی کو نہ بتائے؟
تو کیا اس کی خاموشی ہمیں بری کر دے گی؟
نہیں! بالکل نہیں۔۔۔

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو صرف یہ کہہ دینا کہ "یہ حرام ہے"، اس جرم کی سنگینی کو پوری طرح بیان نہیں کرتا۔
یہ حرام ہے، بلاشبہ۔
لیکن یہ صرف حرام فعل نہیں۔
یہ ایک کمزور انسان پر طاقت کا استعمال ہے۔
یہ اعتماد کی خیانت ہے۔
یہ معصومیت پر حملہ ہے۔
یہ ایک ایسے انسان کی حرمت پامال کرنا ہے جو اپنے دفاع کے قابل بھی نہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا

وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا۔
تو جس معاشرے میں بچے خوف کے ساتھ بڑے ہوں، ہمیں اپنے معاشرے کے بارے میں سوچنا ہوگا۔

بچوں کی خاموشی کو علامت سمجھیں

کبھی بچے الفاظ میں مدد نہیں مانگتے۔وہ صرف کہتے ہیں:
"مجھے وہاں نہیں جانا۔"
اور ہم پوچھتے بھی نہیں کہ کیوں۔
کبھی وہ اچانک خاموش ہو جاتے ہیں۔
کبھی کسی شخص سے ڈرنے لگتے ہیں۔
کبھی اپنے اندر سمٹ جاتے ہیں۔
اور ہم سمجھتے ہیں:
"بچہ ہے، نخرے کر رہا ہے۔"

شاید ہر بار  خاموشی کے پیچھے کوئی بری  وجہ نہ ہو۔۔۔ اللہ کرے نہ ہو۔۔۔
لیکن  یاد رکھیں کہ
والدین ہونے کا مطلب صرف بچے کی آواز سننا نہیں؛ اس کی خاموشی کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔

بچوں پر روا ظلم پر خاموشی بھی ظلم ہے

حضرات!
ظلم صرف وہ نہیں جو ظالم کے ہاتھ سے ہوتا ہے۔
کبھی ظلم کے بعد آنے والی خاموشی بھی ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔
ہم کہتے ہیں:
"گھر کی بات گھر میں رہنی چاہیے۔"
"لوگ کیا کہیں گے؟"
"خاندان کی عزت خراب ہو جائے گی۔"
"ادارہ بدنام ہو جائے گا۔"
"بات بڑھاؤ نہیں، خاموش رہو۔"
لیکن ذرا اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر سوچیے:
اگر ایک طرف ایک بچے کی حفاظت ہو اور دوسری طرف ہماری شہرت، تو ہم کس کو بچائیں گے؟
اگر ایک طرف ایک مظلوم کی آواز ہو اور دوسری طرف لوگوں کی زبانیں، تو ہم کس کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟
اگر ایک بچے کا مستقبل اور کسی طاقتور شخص کی عزت آمنے سامنے کھڑی ہو جائے تو؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاۗءَ لِلّٰهِ

انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو۔
یعنی اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ظلم اس لیے چھپا دو کہ ظالم اپنا ہے۔
بلکہ اسلام کہتا ہے:
حق، حق ہے؛ خواہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
اور کبھی کبھی ہمیں اپنے معاشرے سے یہ سوال پوچھنا چاہیے:
بچے کو خاموش کرا کے خاندان کی عزت نہیں بچتی؛ کبھی کبھی صرف ظالم کی عزت بچائی جاتی ہے۔

آج  کا سبق  ہے

میرے بھائیو!
آج جب آپ گھر جائیں تو ذرا اپنے بچے کو دیکھیں۔
اس کے چہرے کو دیکھیں۔
اس کی آنکھوں کو دیکھیں۔
اس کے سر پر ہاتھ رکھیں۔
اسے سینے سے لگائیں۔
اور دل میں اپنے رب سے کہیں:
یا اللہ! تو نے جو امانت ہمارے حوالے کی ہے، ہمیں اس کا حق ادا کرنے والا بنا۔
ہمیں ایسا باپ بنا کہ ہماری اولاد ہم سے ڈرے نہیں، ہم پر اعتماد کرے۔
ہمیں ایسی ماں بنا کہ ہماری اولاد اپنے دکھ ہم سے چھپائے نہیں۔
ہمیں ایسا استاد بنا کہ ہماری موجودگی بچے کے لیے خوف نہیں، تحفظ بن جائے۔
ہمیں ایسا معاشرہ بنا کہ بچے یہاں صرف بڑے نہ ہوں، محفوظ بھی بڑے ہوں۔
کیونکہ بچے ہمارے نہیں ہیں کہ ہم ان کے ساتھ جو چاہیں کریں۔
وہ ہمارے پاس  اللہ کی امانت ہیں۔
اللہ نے انھیں کچھ وقت کے لیے ہمارے سپرد کیا ہے۔
اور ایک دن وہ امانت واپس ہو جائے گی۔
پھر ہم سے پوچھا جائے گا:
تم نے امانت کے ساتھ کیا کیا؟
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی امانتوں کا سچا امین بنائے، ہماری اولاد کو ہر شر سے محفوظ فرمائے، ہمارے گھروں کو رحمت و عافیت کا گہوارہ بنائے، اور ہمیں ظلم کرنے، ظلم سہنے اور ظلم پر خاموش رہنے سے محفوظ فرمائے۔

اللهم صل وسلم وبارك على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
آمین یا رب العالمین۔

حوالہ جات:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

en_USEnglish
Scroll to Top